Home Blog Page 6

ایک اچھا دوست

0
دوست
دوست friend

دوست

یاسین بہت جاوان جب وہ عراق سے انگلینڈ میں منتقل ہوگیا۔
یاسین اپنے گھر سامارا چہور کر نہیں جانا چاتی تھی لیکن سامارا اب بہت حترناک تھا۔
اس کا ابو نے کہا کے انگلینڈ ایک کثیر ثقافتی جزیرہ ہے جہاں سارے نسل اور مزہب کے لوگ ایک دوسرے کے سات خوشگوار کام کرتے ہیں۔

یاسین کا خاندان اپنے سامان لے کر لنڈن گئ.وہاں بہت اوچے عمارت اور عجائب گھر تھے اور یاسین کا پسندیدہ چیزیں سیارہوم اور دریا ٹیمز پورانا پل کے سات تھا۔
یاسین کجھ وقت کے بعد اپنی پروسی کے سات دوستی ہوئ،اس کا نام تھا غینڈرو۔

پوری گرمیوں کی تعطیلات وہ دونوں پارک گئ ، چڑیا گھر گئ ، غینڈرو نے یاسین کے سات اپنے کھلونے کھیلنے دیا اور اپنے پسندیدہ سپر ہیرو کے بارے میں بتایا اور دونوں نے یاسین کی باغ میں کیمپ بنایا۔

دن پر دن یاسین لنڈن کو گھر سمج لگا اور اس کا انگلیش بہتر ہونے لگا مگر وہ ابھی بولنے میں کمی تھی اور اسی لیۓ شرمندا مہسوس ہوا۔

جب ستمبر اگئ یاسین کو اسکول جانا زاروری تھا اس لیۓ وہ اداس ہوئ لیکن اس کا ابو نے بتایا تعلیم بہت زاروری ہے ۔

بعد میں یاسین کو پتا چل گئ کے وہ عینڈرو کا کلاش میں ہوں گی۔

اگلا دن عینڈرو اور یاسین ایک دوسرے کے سات اسکول گئ اور عینڈرو نے کھیل کا میدان، استاد ، مزاخیا لرکوں اور خوبسورات لرکیوں اور قارئین کے بارے میں بتایا۔ یاسین کبھی قارئین کو نہیں دیکھا لیکن عینڈرو بہت دلچسپی تھی تو وہ زارور اچھا ہوں گا۔

مگر جب وہ کلاسروم پہنچا استانی نے یاسین کو بتایا کے وہ سب کے سامنے اپنے نام بتادوں۔

ایک لرکا نے بولا ‘ بدبودار بے ملکی’ اور سب ہسنے لگۓ اور ایک اور لرکا نے کہا ‘استانی میں سمج نہیں کر سکتی۔وہ انگریز نہیں بول سکتا’ اور سب پھر ہسنے لگۓ۔

یاسین بہت اکیلا اور اوداس مہسوس کر رہا تھا اور استانی اس کو بیٹھنے کی اجازت دیا۔ یاسین عنڈرو کے بیٹھنے کی خوایش تھی مگر وہ ایک لرکی کے سات بیٹھنا پرا۔

وہ لرکی بار بار اجیب سے یاسین کو دیکھا اور وہ الگ کرسی بیٹھنے کے لیۓ استانی کو بولایا-

جب گھنٹی بجگئ سب اپنے کوٹ پین کر کھیلنے کے میدان میں گئ مگر استانی یاسین کو بولایا تاکی وہ اس کو ایک بیج دے سکتے جس کے اوپر یاسین کا نام لیکھا تھا۔

‘اب سب آپ کا نام فورن سیکھ لیں گۓ’ استانی نے کھا۔

یاسین نے اپنے دیماغ مین سوچھا ‘ اب سب مجہ پر اور ہسیں گی’

جب وہ باہر گیا ایک چہوٹا لرکا گھوبگھرالی سنہری بال کے سات یاسین کو لرکی کا نام کہا اور یاسین اس کو سمجانے کا موفا نہیں دیا اور سب پھر ہسرہے تھے۔

یاسین گہر جانا چاتا تھا۔

‘سلام یاسین!’

یاسین پیچھے دیکھ کر عنڈرو کو دیکھا-
عندرو نے دوسرے بچے دیکھ کر کہا

‘آپ سب سے کیا ہوا؟! مین نے اپنے دوست یاسین کو بتایا کے اسکول بہت اچھا ہے- آپ اس کا پہلا دن بوڑا کیو بنا رہے ہیں؟’

‘وہ ہم سے الگ ہے’ ایک لمبی لرکی نے بولا

‘تو؟ آپ بھی الگ ہے۔ آپ پورا اسکول میں سب سب سے لمبی ہےاور جب لوگ آپ کے بارے میں مزاک بناتے ہیں آپ اداس ہوجاتی ہے’

‘اور آپ’ عینڈرو گھوبگھرالی بال لرکا کو دیکھ رہا تھا ‘آپ اداس ہوتے ہے جب لوگ آپ کا بال لرکی کا بال بولتے ہیں’

‘ ہم سب الگ ہیں اور اگر ہم سب ایک دوسرۓ کے ترہا ہوتے ہیں تو زنداگی کیسی ہون گی؟’

سارے بچے خاموش ہو گئ پھر یاسین اپنا سر اوچا رکھ کر مسکرایا اور کہا ‘بوڑینگ’

‘بالکل!’ بہت بوڑینگ’ عنڈرو بھی مسکرایا۔

پھر سارے بچے ایک دوسرے کے سات کہا ‘ بہت بوڑینگ!’

عنںدرو نے کہا کے یاسین سئ ترہا الگ ہے کیونکہ وہ ہاٹ ڈاگز کو پسند نہیں کرتا۔

سب ہسنے لگا اور سب کو بتایاوہ چیز جو ان الگ بناتے ہیں۔

پیٹڑ جینکینز نے اس کا کمیز اٹھا کر سب اس کا جنام کا نشانی فخر کے سات دیکھایا۔

جب کھیلنے کا وقت ختم ہوا عنڈرو نے ہات اٹھا کر استانی کو پوچا ‘کیا ہم اس لوگوں کے بارے میں بات کرسکتے ہیں جو دوسرے ملک سے انگلینڈ آگئ ایک نیا زندگی شرؤ کرنے کے لیۓ ، میرا دوست یاسین کی ترھا؟’

استانی نے کہا انفرادیت زاروری ہے مگر بریتانیءہ کی خوبسوراتی یۓ ہے کی وہ ایک کثیر ثقافتی جزیرہ ہے۔

یاسن نے کتاب مین دو لفظ لیکھا اور اپنے آپ سے واداہ کیا کی وہ اس لفظ کو سیک لوں گی اور ہمیشا یاد کروں گی۔

وہ ‘دوست’ بھی اپنۓ کتاب مین لیکھا کینکہ وہ بہت شکر گزار تھا کے اس نے ایک سچا دوست ملا جو اس کو کبول کرتا ہے۔

2اکیلے نہیں

0
اکیلے نہیں
اکیلے نہیں
اکیلے نہیں 

جب ڈیلیسے صرف آٹھ سال کی تھی تو اس کی ماں نے اسے بتایا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر انگلینڈ چلے جائیں گے۔

ڈیلیسے کی والدہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ‘آپ کے والد کو کام تلاش کرنا چاہیے تاکہ ہم آپ کے دادا دادی اور آپ کی آنٹی کی کفالت کے لیے رقم بھیج سکیں۔’

نوجوان لڑکی منیلا میں اپنا گھر چھوڑنا نہیں چاہتی تھی جو کہ فلپائن کا ایک بہت بڑا شہر ہے اور جب اس کی والدہ نے اسے یہ خبر سنائی تو اسے بہت دکھ ہوا۔

‘لیکن میرے تمام دوستوں کا کیا ہوگا؟’ ڈیلیسے نے پوچھا۔ ‘میں انگلینڈ میں کسی کو نہیں  جانتی اور میں اکیلی ہوں گی۔’

اس کی والدہ نے ڈیلیسے کو یقین دلایا کہ یہ ان تینوں کے لیے ایک دلچسپ مہم جوئی والی بات ہونے والی ہے اور جب  وہ انگلینڈ میں اسکول شروع  کرے گی تو ڈیلیسے بہت سے نئے دوستوں سے ملے گی۔ ڈیلیسے کو اپنی ماں کے مہربان الفاظ پر یقین نہیں آیا۔ اسے اپنا گھر پسند تھا اور وہ اسکول جانا پسند کرتی تھی جہاں وہ تمام اساتذہ کو جانتی تھی اور اس کے بہت سے دوست پہلے سے ہی تھے۔

‘مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ ہمیں انگلینڈ کیوں جانا پڑے گا،’ ڈیلیسے نے ایک رات پہلے سوچاجب خاندان نے جانا تھا۔ ‘میں انگلینڈ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ مجھے انگریزی بھی زیادہ نہیں آتی اور میں بالکل اکیلی ہو جاؤں گی!’

اس آخری احساس نے نوجوان لڑکی کو مزید اداس کر دیا اور اس نے دل سے خواہش کی کہ وہ منیلا میں اپنی آنٹی یا اپنے دادا دادی کے ساتھ رہ سکے۔

سفر بہت لمبا تھا اور ڈیلیسے بڑے ہوائی جہاز اور ہوائی اڈے پر بھاگنے والے تمام لوگوں سے مغلوب تھی۔

جب خاندان آخر کار انگلینڈ پہنچا تو سب کچھ عجیب سا لگ رہا تھا اور اسے یقین تھا کہ ہر کوئی اس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ برمنگھم کے شہر کی عمارتیں بڑی اور سرمئی تھیں اور ڈیلیسے کو گھرجیسا بالکل بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔

پہلا مہینہ اچانک گزر گیا جب خاندان کو رہنے کے لیے ایک گھر مل گیا اور ڈیلیسے کے والد کام کی تلاش میں باہر گئے تاکہ وہ فلپائن میں باقی خاندان کو پیسے واپس بھیج سکیں۔

نوجوان لڑکی بہت اکیلی تھی، اور اگرچہ اس کی ماں اس کے ساتھ کھیل کھیلتی تھی اور اسے ادھر ادھر گھمانے کے لیے باہر لے جاتی تھی، ڈیلیسے اپنے دوستوں کو بہت یاد کرتی تھی اور یہ محسوس کرنے میں  اپنے آپ کو نہیں روک سکتی تھی کہ وہ نئے شہر میں بالکل اکیلی ہے۔ رات کو وہ اپنے بستر پر روتی رہتی تھی اور وہ اکثر خواب دیکھتی تھی کہ اگلے دن اس کے والد اسے جگائیں گے اور بتائیں گے کہ وہ گھر لوٹنے والے ہیں۔ لیکن ہر صبح ڈیلیسے بیدار ہوئی اور اسے احساس  ہوتا کہ شاید وہ پھر کبھی گھر واپس نہیں جائے گی۔

ایک صبح، جب وہ دودھ کے ساتھ اناج کا عجیب سا ناشتہ کھا رہی تھی – سینانگگ کے اس کے معمول کے ناشتے کی طرح کچھ بھی نہیں جو مزیدار انڈوں سے بنے چاول تھے، ڈیلیسے کو معلوم ہوا کہ وہ اسکول جانے والی ہے۔

اس کی ماں نے کہا،’ یہ آپ کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور نئے دوستوں سے ملنا بہت اچھا ہوگا۔’

لیکن ڈیلیسے یہ خبر سن کر خوش نہیں ہوئی ۔ اسے گھر واپسی پر اپنے دوستوں کی یاد آتی تھی، اور اگرچہ وہ گھر سے زیادہ باہر نکلنا چاہتی تھی، لیکن وہ اسکول جانے سے ڈرتی تھی کیونکہ وہ کسی کو نہیں جانتی تھی۔ ڈیلیسے نے بہت سارے بچوں کو دیکھا تھا جب اس نے اور اس کی والدہ نے برمنگھم شہر کی سیر کی تھی، لیکن کسی نے بھی اس سے بات نہیں کی تھی اور وہ زیادہ انگریزی نہیں بولتی تھی جس کے بارے میں اسے معلوم تھا کہ اسے اسکول میں مشکل پیش آئے گی۔

جب صبح ہوئی، ڈیلیسے نے یہ بہانہ کرنے کی کوشش کی کہ اسے بخار ہے اور وہ اسکول کے لیے بہت بیمار ہے، لیکن اس کی ماں ہمیشہ بتا سکتی تھی کہ ڈیلیسے کب ڈرامہ کر رہی تھی اور اس لیے اسے کپڑے پہننے اور اپنا ناشتہ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

ڈیلیسے اور اس کی ماں اسکول کے دروازے تک ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتی رہیں جہاں ان کی ملاقات مسز مری نامی ایک  استانی سے ہوئی۔  استانی بہت ملنسار تھی اور اس نے ڈیلیسے کا اسکول میں خیرمقدم کیا اور اس کی والدہ کو بتایا کہ وہ تین بجے دوبارہ آکر اپنی بیٹی کو واپس لے سکتی ہیں۔

صبح ایک دھندلے انداز میں گزری جب ڈیلیسے کا تعارف مزید اساتذہ اور بہت سارے بچوں سے ہوا جنہوں نے مسکرا کر ہیلو کہا۔ ڈیلیسے کو بہت کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اس سے کیا کہا گیا لیکن یہ سمجھایا گیا کہ دوپہر کو وہ دوسرے بچوں کے ساتھ ایک خصوصی کلاس میں جائے گی جو پوری دنیا سے انگلینڈ منتقل ہوئے تھے۔

جب ڈیلیسے بعد میں اس دوپہر کو کلاس روم میں پہنچی تو اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اوراندر چلی گئی۔ اجنبیوں سے ملنے کے اتنے لمبے دن سے وہ بہت نروس تھی اور بہت تھک بھی گئی تھی۔ لیکن جب وہ اندر آئی تو مسز محمود نے بڑی مسکراہٹ کے ساتھ  اس کا استقبال کیا جو پاکستان سے تھیں۔

دوستانہ بنے چاول تھے نے کہا، ‘ڈیلیسے اندر آؤ۔’ آج ہم ایک کتاب پڑھ رہے ہیں جس کا نام پُس اِن بوٹس ہے اور بعد میں ہم کچھ گیمز کھیلیں گے اور پینٹنگ کریں گے۔’

نوجوان لڑکی نے دیکھا کہ کلاس روم میں موجود تمام بچے ایک دوسرے سے بہت مختلف تھے۔ ایک لڑکا زمبابوے سے اور دو لڑکیاں پولینڈ سے تھیں۔ البانیہ کی ایک بڑی لڑکی تھی اور ایک لڑکا جو ڈیلیسے سے بھی چھوٹا تھا جس نے کہا کہ وہ ایران سے ہے۔ اور اسے حیران کرنے کی بات یہ ہے کہ کلاس روم کے پچھلے حصے میں پُس اِن بوٹس کی ایک کاپی ہاتھ میں پکڑے کالیا نامی ایک نوجوان لڑکی بیٹھی تھی، جو کہ فلپائن کی تھی!

‘یہاں آؤ اور میرے پاس بیٹھو!’ کالیا نے کہا، جو ڈیلیسے کی طرح حیران تھی۔

دونوں لڑکیاں فوری دوست بن گئیں کیونکہ کالیا نے پُس اِن بوٹس کی کہانی کے بارے میں اور بتایا کہ انہوں نے مسز محمود کے ساتھ اپنی انگلش کو کیسے بہتر بنانا سیکھا جو پوری دنیا کی بہترین ٹیچر تھیں۔

اس دوپہر، ڈیلیسے نے کلاس میں ہر ایک بچے سے بات کی، اور اگرچہ وہ  ہر دفعہ یہ نہیں سمجھ پاتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، لیکن وہ ایک بات یقینی طور پر جانتی تھی: تمام بچے نئی زندگی شروع کرنے کے لیے انگلینڈ آئے تھے، اور اگرچہ کبھی کبھی کسی نئی جگہ پر ہونا خوفناک ہوتا تھا جہاں آپ زبان نہیں بولتے تھے، وہاں ہمیشہ کوئی نہ کوئی آس پاس ہوتا جو مدد کرتا۔ اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ دنیا میں کہاں گئے ہیں، آپ کو ہمیشہ ایک دوست ملے گا۔ ڈیلیسے کو تب احساس ہوا کہ وہ کبھی تنہا نہیں ہو گی۔ انگلینڈ اس کا نیا گھر تھا اور وہ اس سے بہترین فائدہ اٹھانے والی تھی۔

اکیلے نہیں
اکیلے نہیں

Motivational Urdu

0
Motivational
Motivational quotes

Motivational Urdu

جب زندگی کی مشکلات ہمارے روبرو کھڑی ہو جاتی ہیں، ہماری توانائی کو کم کردیتی ہیں اور ہمیں گرا کر دم لیتی ہیں، اس وقت ہمیں کچھ مشہور اردو اقوالِ زریں کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں دوبارہ حوصلہ دیتے ہیں اور ہمیں ہمارے تکمیل کے راستے پر آگے بڑھنے کے لئے ہمت اور حوصلہ دیتے ہیں۔

ان اردو اقوال زریں میں ایک خوبصورت روشنی پوشیدہ ہوتی ہے جو ہمارے دلوں کو روشن کرتی ہے، ہمیں ہمارے حقیقی قابلیتوں کو دیکھنے کے لئے ترغیب دیتی ہے اور ہمیں زندگی کے روشن مقاصد کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ بلاگ پوسٹ اردو کے حوصلہ افزائی اقوال پر مبنی ہے، جو آپ کے دلوں کو چھو جائیں گے اور آپ کو آگے بڑھنے کیلئے مہم دیں گے۔

تو کیوں انتظار کر رہے ہیں؟ اب آگے بڑھیں اور ان نفیس الفاظ کو پڑھیں جو آپ کی زندگی کو مسلح کرنے کیلئے اکٹھے کئے گئے ہیں۔ اب آپ کا آپ کے ہنراور قابلیتوں کو پہچاننے کا وقت ہے۔

آپ کے مستقبل کے حالات کے لیے آپ کے علاوہ کوئی بھی ذمہ دار

نہیں ہے۔ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو “کامیاب” بنیں۔

جب ہم خود بہتر بننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارے آس پاس کی ہر چیز بھی بہتر ہو جاتی ہے

Quotes in Urdu

اہداف کا تعین کرنا، پوشیدہ کامیابی

کو دیکھنے کا پہلا قدم ہے۔

مشکل دن وہی ہیں

جو آپ کو مضبوط بناتے ہیں

ہمارے تمام خواب پورے ہو سکتے ہیں

اگر ہم ان کا پیچھا کرنے کی ہمت رکھتے ہوں۔

اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ نے اپنے پاؤں

صحیح جگہ پر رکھے ہیں، پھر مضبوطی سے کھڑے رہیں۔

صبح کے وقت صرف ایک چھوٹی سی مثبت سوچ

آپ کے پورے دن کو بدل سکتی ہے۔

بہترین انتقام’

عظیم کامیابی حاصل کرنا ہے۔

ایک فاتح، خواب دیکھنے والا ہوتا ہے

جو کبھی ہار نہیں مانتا۔

اگر آپ خواب دیکھ سکتے ہیں

تو آپ کر سکتے ہیں۔

motivational Urdu quotes

کامیابی وہی حاصل کرتا ہے جو ہار سے سبق لے کر آگے بڑھتا ہے۔

خواب دیکھو، لیکن انہیں پورا کرنے کے لیے محنت بھی کرو۔

زندگی میں ناکامی صرف ایک سبق ہے، منزل تک پہنچنے کا راستہ نہیں۔

خود پر یقین رکھو، دنیا خود بخود تمہارے پیچھے چلے گی۔

کامیابی کے لیے راستے بنانا پڑتے ہیں، نہ کہ بہانے۔

جو لوگ تم پر یقین نہیں کرتے، انہیں اپنی کامیابی سے حیران کرو۔

مشکل وقت آتا ہے، لیکن وہ ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا۔

اپنی قدر خود کرو، دنیا تمہیں وہی قدر دے گی۔

خوف کو اپنے خوابوں پر قابو نہ پانے دو۔

ہر دن ایک نیا موقع ہے، کچھ بہتر کرنے کا۔

وہ کام کرو جس سے تمہیں خوشی ملے، کامیابی خود مل جائے گی۔

محنت کبھی ضائع نہیں جاتی، صرف وقت لگتا ہے۔

ہمت ہارنے والے کبھی جیت نہیں سکتے۔

اپنی غلطیوں سے سیکھو، یہی تمہاری اصل طاقت ہے۔

راستے بدل سکتے ہیں، لیکن منزل کبھی نہیں۔

کامیاب لوگ وہ ہوتے ہیں جو خوابوں کے پیچھے بھاگنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

محنت کرو، کیونکہ قسمت محنت کرنے والوں کا ساتھ دیتی ہے۔

خود کو بہتر بنانے کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی۔

ناکامی ایک موقع ہے، دوبارہ بہتر آغاز کرنے کا۔

زندگی ایک جنگ ہے، جیتنے کے لیے لڑنا ضروری ہے۔

چھوٹے خواب دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، بڑے خواب دیکھو۔

اپنے اندر کی روشنی پہچانو، تم سب کچھ کر سکتے ہو۔

وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو کبھی ہار نہیں مانتا۔

آج کی محنت کل کی کامیابی ہے۔

حالات کتنے بھی خراب ہوں، خود پر یقین رکھو۔

کامیابی ہمیشہ ان کے حصے میں آتی ہے جو اس کے لیے تیار رہتے ہیں۔

زندگی کو بہتر بنانے کے لیے، اپنے خیالات کو بہتر کرو۔

مشکلات کے باوجود، ہار نہ ماننا تمہاری سب سے بڑی کامیابی ہے۔

وقت کی قدر کرو، یہی کامیابی کی چابی ہے۔

اگر تم خواب دیکھ سکتے ہو، تو تم انہیں پورا بھی کر سکتے ہو۔

کامیابی اُنہیں ملتی ہے جو خود کو ناکامی کے بعد بھی سنبھال لیتے ہیں۔

زندگی بدلنے کے لیے پہلے خود کو بدلنا پڑتا ہے۔

ہمت ہارنے والے نہیں، بلکہ سیکھنے والے ہی کامیاب ہوتے ہیں۔

ہر نیا دن ایک نیا موقع ہے، بس خود پر یقین رکھو۔

منزلیں ہمیشہ ان ہی کو ملتی ہیں جو منزلوں کو تلاش کرتے ہیں

اپنے کل کو بہتر کرنے کےلئے.. اپنا آج سنوارو

بہترین دنوں کے لیے برے دنوں سے لڑنا پڑتا ہے

ہجوم کے ساتھ غلط راہ پر چلنے سے بہتر ہے کے آپ تنہا راہ ہدایت پر چل پڑیں

شخصیت میں عاجزی نہ ہوتو معلومات میں اضافہ علم کو نہیں بلکہ تکبر کو جنم دیتا ہے

تم دوسروں کے راستے کی رکاوٹیں دور کرتے جاؤتمہاری اپنی منزل کا راستہ آسان ہوتا چلا جائے گا

مصروفیت کے بجائے

نتیجہ خیز بننے پر توجہ دیں۔

آج آپ کے پاس اپنے آنے والے

کل کو بنانے کا موقع ہے۔

میں کبھی نہیں ہارتا۔

یا تو میں جیتتا ہوں یا سیکھتا ہوں۔

اگر آپ اڑنا چاہتے ہیں تو ہر وہ چیز

ترک کر دیں جو آپ کو نیچے کی طرف کھینچتی ہے۔

مواقع ظاہر نہیں ہوتے ۔

آپ انھیں تخلیق کرتے ہیں۔

اپنے زخموں کو

حکمت میں بدل دو۔

ہر دن کو اپنا شاہکار

دن بنائیں۔

اپنا چہرہ ہمیشہ دھوپ کی طرف رکھیں

اور سائے آپ کے پیچھے گریں گے۔

ہر مشکل کے بیچ

میں موقع ہوتا ہے۔

اپنے چیلنجوں کو محدود نہ کرو۔

اپنی حدود کو چیلنج کرو۔

جب تک تم نہیں کرو گے

کچھ کام نہیں کرے گا

اگر تم بڑا کام نہیں کر سکتے تو چھوٹے کاموں کو

عمدہ طریقے سے کرو۔

ہم تعلیم خرید سکتے ہیں، لیکن حکمت خدا کا تحفہ ہے۔

پاکستان کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا یہ اقتباس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکمت اور تعلیم ایک ہی نہیں ہیں اور یہ کہ حکمت تعلیم سے کہیں زیادہ برتر ہے۔ جب کہ آپ تعلیم خرید سکتے ہیں، سچی حکمت اللہ تعالی کی طرف سے عطا کی گئی ہے۔

عقلمند وہ ہے جو کچھ کرنے سے پہلے نتیجہ کے بارے میں سوچے۔

یہ اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علی کا ایک اسلامی اقتباس ہے۔ یہ ایک بابا کی دور اندیشی کو اجاگر کرتا ہے، اور اس کا استعمال کسی ایسے شخص کی تعریف کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے جو کسی عمل کے نتیجے کی توقع رکھتا ہے — یا ان لوگوں کو نصیحت کرنے کے لیے جو مستقبل کے بارے میں سوچے بغیر کام کرتے ہیں۔ یہ انگریزی اقتباس کے قریب قریب ہے، “چھلانگ لگانے سے پہلے سوچیں۔

مصیبت آدمی کو عقلمند بنا دیتی ہے اگر دولت مند نہ ہو۔

آپ اس خاص اقتباس کو کسی ایسے شخص کو تسلی دینے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جو مشکل وقت کا سامنا کر رہا ہے۔

عقلمند اپنی برائیاں خود دیکھتا ہے اور احمقوں کی برائیاں دوسروں کو نظر آتی ہیں۔

یہ اقتباس ایک اور مشہور مسلمان عالم شیخ سعدی کا ہے۔ آپ اسے کسی ایسے احمق شخص کا مذاق اڑانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جو اپنی برائیوں کو پہچاننے سے قاصر ہے، یا کسی کی اس قابلیت کی تعریف کرنے کے لیے۔

جو لوگ بڑی منزلوں کے لیے ہوتے ہیں وہ بڑا دل رکھتے ہیں۔

یہ اقتباس اس کے قریب قریب ہے، “ناکامی نہیں، لیکن کم مقصد، ایک جرم ہے۔” یہ اردو کے مشہور دانشور واصف علی واصف کے قلم سے نکلا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو کبھی بھی کم اہداف نہیں رکھنا چاہئے اور ہدف اور مقاصد کو بلند رکھنا چاہئے۔

یہ مٹی بہت زرخیز ہے۔ صرف پانی کی ایک بوند کی ضرورت ہے.

یہ اقتباس پاکستان کے قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے لکھا تھا۔ یہ کسی میں ممکنہ ٹیلنٹ کی موجودگی کو بیان کرتا ہے، جو کہ صرف ایک چھوٹی سی حالات کی حوصلہ افزائی کے ساتھ، کچھ شاندار بن جائے گا۔ اس کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب کوئی محدود وسائل کے ساتھ غیر معمولی کامیابیاں لاتا ہے۔

زندگی اپنا راستہ طے کرتی ہے، نصاب زندگی کا تعین نہیں کرتے۔

سعادت حسن منٹو کا اقتباس زندگی کو اپنے راستے کے تعین میں محرک قوت کے طور پر بتاتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کس راستے پر جانا چاہتے ہیں، کیونکہ زندگی کے اپنے منصوبے ہیں جن کو عملی جامہ پہنانا ہے

زندگی ریاضی کا سوال نہیں جس کا جواب معلوم ہونا چاہیے۔

یہ اقتباس زندگی کی پراسرار نوعیت کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ زندگی کوئی ریاضیاتی مسئلہ نہیں ہے جس کا قطعی جواب ہو۔ آپ اس اقتباس کو استعمال کر سکتے ہیں جب بھی آپ کو ناقابلِ فہم حالات کا سامنا ہو۔

میں نے اپنی زندگی مسلسل جبر کی طرح گزاری ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کیوں سزا دی گئی۔

پاکستان میں لوگ اکثر گفتگو میں شاعرانہ اشعار کا حوالہ دیتے ہیں۔ یہ شعر اردو کے مشہور شاعر صغیر صدیقی کا ہے۔ یہ زندگی کے ظلم کی بات کرتا ہے، شاعر اپنے مسلسل مصائب کے بارے میں روتا ہے اور ایک نامعلوم جرم کی سزا کے لیے ماتم کرتا ہے۔ آپ اس شعر کا استعمال کسی اور کے دکھوں پر تبصرہ کرنے یا اپنے دکھوں کو اجاگر کرنے کے لیے کر سکتے ہیں۔

یہ میری زندگی ہے یا کسی قسم کا طوفان؟‘‘

یہ ایک اور مقبول شعر ہے، جو اکثر زندگی کے ظلم پر تبصرہ کرتا ہے۔

وقت بدلے گا (مسٹر ناصر)، اس زندگی میں ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔

پاکستان کے معروف شاعر ناصر کاظمی نے یہ شعر لکھا ہے جس میں انہوں نے غم سے منع کیا ہے اور کہا ہے کہ اچھا وقت جلد آنے والا ہے اور زندگی بہت لمبی ہے۔ آپ اس اقتباس کو استعمال کر سکتے ہیں جب بھی آپ چاہتے ہیں کہ کوئی زیادہ پر امید اور پر امید ہو۔

وقت اپنے وقت پر بدلتا ہے لیکن انسان کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔

یہ اردو اقتباس انسانوں کی عارضی فطرت کے بارے میں شکایت کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ وقت ایک مخصوص مدت کے ساتھ بدلتا ہے، لیکن انسان چست ہے اور بے ساختہ بدل سکتا ہے۔ آپ اس اقتباس کو استعمال کر سکتے ہیں جب کوئی آپ کو دھوکہ دے یا مایوس کرے۔

ہر کوئی مشکل وقت سے گزرتا ہے۔ کچھ بکھر جاتے ہیں جبکہ باقی چمکنے کے لیے زندہ رہتے ہیں۔”

یہ وہ اقتباس ہے جس کا استعمال ایک رہنما سامعین کو تسلی دینے اور انہیں باوقار آزمائش سے گزرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنے کے لیے کر سکتا ہے۔

وقت، اعتماد اور عزت ان پرندوں کی طرح ہے جو ایک بار اڑ کر واپس نہیں آتے۔

اس اقتباس کا مطلب ہے کہ آپ کسی پر صرف ایک بار بھروسہ کر سکتے ہیں۔ جب آپ کو دھوکہ دیا جاتا ہے یا آپ کو مایوس کیا جاتا ہے، تو وہ اعتماد ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

مشکل راستے اکثر خوبصورت منزلوں تک لے جاتے ہیں۔

ہمت وہ طاقت ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔

کامیابی کا سفر صرف وہی طے کرتے ہیں جو ہار ماننا نہیں جانتے۔

ہر مشکل کے پیچھے چھپی ہوتی ہے ایک نئی کامیابی کی چمک۔

There are a lot of inspirational quotations available in Urdu that can help individuals become more inspired and motivated. You can read and share some of the most inspirational quotations ever said in Urdu

sad quotes urdu

0
sad
sad Quotes

One Line Sad quotes in Urdu

“Sad quotes in Urdu one line” Sad Love Poetry | Urdu Sad Poetry | Urdu Sad Love Poetry | Urdu Love Poetry | Best Urdu Sad Love Poetry | |Urdu Poetry | Urdu Shayari | Best Urdu Poetry | Best Urdu Shayari | Best Quotes In Urdu l j4quotes | Best Urdu Quotes | Quotes | Quote | Short Sad Quotes, encapsulates a poignant collection of succinct expressions that delve into the depths of melancholy and longing within the rich tapestry of the Best Urdu language. These one-liners serve as potent reflections of human emotion, resonating with readers through their simplicity yet profound depth. From the poetry of renowned Urdu poets like Mirza Ghalib and Faiz Ahmed Faiz to sad contemporary writers, these quotes capture the essence of sorrow, heartache, and introspection, offering solace to those navigating the complexities of life’s trials.

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا

جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا

کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ
منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا

مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلۂ نوحہ گری
اس قدر گردش ایام پہ رونا آیا

جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیلؔ
مجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا

اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں

اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں
مقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیں

پتھر ہیں سبھی لوگ کریں بات تو کس سے
اس شہر خموشاں میں صدا دیں تو کسے دیں

ہے کون کہ جو خود کو ہی جلتا ہوا دیکھے
سب ہاتھ ہیں کاغذ کے دیا دیں تو کسے دیں

سب لوگ سوالی ہیں سبھی جسم برہنہ
اور پاس ہے بس ایک ردا دیں تو کسے دیں

جب ہاتھ ہی کٹ جائیں تو تھامے گا بھلا کون
یہ سوچ رہے ہیں کہ عصا دیں تو کسے دیں

بازار میں خوشبو کے خریدار کہاں ہیں
یہ پھول ہیں بے رنگ بتا دیں تو کسے دیں

چپ رہنے کی ہر شخص قسم کھائے ہوئے ہے
ہم زہر بھرا جام بھلا دیں تو کسے دیں

ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور

ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور
بڑھ جائے گی شاید مری تنہائی ذرا اور

کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار
اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور

پھر ہاتھ پہ زخموں کے نشاں گن نہ سکو گے
یہ الجھی ہوئی ڈور جو سلجھائی ذرا اور

تردید تو کر سکتا تھا پھیلے گی مگر بات
اس طور بھی ہوگی تری رسوائی ذرا اور

کیوں ترک تعلق بھی کیا لوٹ بھی آیا؟
اچھا تھا کہ ہوتا جو وہ ہرجائی ذرا اور

ہے دیپ تری یاد کا روشن ابھی دل میں
یہ خوف ہے لیکن جو ہوا آئی ذرا اور

لڑنا وہیں دشمن سے جہاں گھیر سکو تم
جیتو گے تبھی ہوگی جو پسپائی ذرا اور

بڑھ جائیں گے کچھ اور لہو بیچنے والے
ہو جائے اگر شہر میں مہنگائی ذرا اور

اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں
کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور

اور ہمیں تو کوئی کھونے سے بھی نہیں ڈرتا

لوگ کہتے ہیں اچھے دل والا انسان ہمیشہ خوش رہتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ اچھے دل والا انسان بہت زیادہ تکلیف اٹھاتا ہے

کیوں کے ایک اچھا انسان ہونے کے ناتے وہ دوسروں سے اچھے کی امید کرتا ہے

کیسے ایک لفظ میں بیان کروں
دِل کو کِس بات نے اُداس کِیا

کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

شام بھی تھی دھواں دھواں، حُسن بھی تھا اُداس اُداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

شام بھی تھی دھواں دھواں، حُسن بھی تھا اُداس اُداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
دل ہمیشہ اُداس رہتا ہے

ہمارے گھر کا پتہ پوچھنے سے کیا حاصل
اداسیوں کی کوئی شَہریت نہیں ہوتی

ہم غمزدہ ہیں، لائیں کہاں سے خوشی کے گیت
دیں گے وہی، جو پائیں گے اِس زندگی سے ہم

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

kar rahā thā ġham-e-jahāñ kā hisāb

aaj tum yaad be-hisāb aa.e

aziiz itnā hī rakkho ki jī sambhal jaa.e
ab is qadar bhī na chāho ki dam nikal jaa.e

terā milnā ḳhushī kī baat sahī
tujh se mil kar udaas rahtā huuñ

apnī hālat kā ḳhud ehsās nahīñ hai mujh ko
maiñ ne auroñ se sunā hai ki pareshān huuñ maiñ

ایسے بھلاۓ جاؤ گے کہ جیسے کبھی تھے ہی نہیں

maiñ to ġhazal sunā ke akelā khaḌā rahā
sab apne apne chāhne vāloñ meñ kho ga.e

tum mujhe chhoḌ ke jāoge to mar jā.ūñgā
yuuñ karo jaane se pahle mujhe pāgal kar do

ham to kuchh der hañs bhī lete haiñ
dil hamesha udaas rahtā hai

kabhī ḳhud pe kabhī hālāt pe ronā aayā
baat niklī to har ik baat pe ronā aayā

ab to ḳhushī kā ġham hai na ġham kī ḳhushī mujhe
be-his banā chukī hai bahut zindagī mujhe

kisī ke tum ho kisī kā ḳhudā hai duniyā meñ
mire nasīb meñ tum bhī nahīñ ḳhudā bhī nahīñ

hamāre ghar kī dīvāroñ pe ‘nāsir’
udāsī baal khole so rahī hai

مجھے اب تم سے ڈر لگنے لگا ہے
تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے

بہت نزدیک آتی جا رہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا

بادلوں کا بھی میرے جیسا حال ہے
بتاتے کچھ بھی نہیں بس روۓ جا رہے ہی

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

کسی سے دل کو کوئی امید مت رکھ
یہاں ہوتا نہیں کوئی کسی کا

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا

جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر’

اداسی بال کھولے سو رہی ہے

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

ہم نے چرچا بہت سنا تھا تیری سخاوت کا
کیا معلو م تھا تم درد بھی دل کھول کر دیتے ہو

وہ یونہی مُجھ سے جُدا تو نہیں ہُوا شفقؔ
کِسی نے عرصہ لگایا ہے اِسے مُجھ سے بدگُماں کرتے ہوئے

مرا خاموش رہ کر بھی انہیں سب کُچھ سُنا دینا
زُباں سے کُچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا

ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اُچھالا دے دوں
میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا

تو نے رُلا کے َکھ دِیا اے زندگی
جا کے پوچھ میری ماں سے کِتنے لاڈلے تھے ہم

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے

sad quotes in urdu

وقت سکھاتا ہے قدر رشتوں کی اور اپنو کی

sad quote

chalne kā hausla nahīñ ruknā muhāl kar diyā
ishq ke is safar ne to mujh ko niDhāl kar diyā

tum kyā jaano apne aap se kitnā maiñ sharminda huuñ
chhūT gayā hai saath tumhārā aur abhī tak zinda huuñ

mujhe tanhā.ī kī aadat hai merī baat chhoḌeñ
ye liije aap kā ghar aa gayā hai haat chhoḌeñ

hamāre ghar kā patā pūchhne se kyā hāsil
udāsiyoñ kī koī shahriyat nahīñ hotī

us ne pūchā thā kyā haal hai
aur maiñ sochtā rah gayā

raat aa kar guzar bhī jaatī hai
ik hamārī sahar nahīñ hotī

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی
تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

مجھ سے بچھڑ کے تُو بھی تو روئے گا عمر بھر
یہ سوچ لے کہ میں بھی تری خواہشوں میں ہوں

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے

تم کیا جانو اپنے آپ سے کتنا میں شرمندہ ہوں
چھوٹ گیا ہے ساتھ تمہارا اور ابھی تک زندہ ہوں

را ت آ کر گزر بھی جاتی ہے
اک ہماری سحر نہیں ہوتی

اس نے پوچھا تھا کیا حال ہے
اور میں سوچتا رہ گیا

جن کے ساتھ اچھا وقت گزارا ہو انہیں بورا نہیں کہتے

mujh se bichhaḌ ke tū bhī to ro.egā umr bhar
ye soch le ki maiñ bhī tirī ḳhvāhishoñ meñ huuñ

dīvāroñ se mil kar ronā achchhā lagtā hai
ham bhī pāgal ho jā.eñge aisā lagtā hai

vo baat soch ke maiñ jis ko muddatoñ jiitā
bichhaḌte vaqt batāne kī kyā zarūrat thī

مجھے ڈھونڈنے کی کوشش اب نہ کیا کر
تو نے راستہ بدلا تو میں نے منزل بدل لی

اپنی حالت کا خود احساس نہیں ہے مجھ کو
میں نے اوروں سے سنا ہے کہ پریشان ہوں میں

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے
بےحس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا

تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مر جاؤں گا
یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو

کبھی کبھی انسان ہر چیز سے تھک جاتا ہے

sad quotes in world

ہر دعا ہوگی بے اثر نہ سمجھ

ہر دعا ہوگی بے اثر نہ سمجھ
آج ناحق ہے آنکھ تر نہ سمجھ

زیست مشکل سہی مگر اے دوست
موت آسان رہ گزر نہ سمجھ

حوصلہ رکھ تو رہرو منزل
تھک کے رستے کو اپنا گھر نہ سمجھ

پوجتا ہوں میں پتھروں کے صنم
میرے دل میں ہے کوئی ڈر نہ سمجھ

جا بہ جا سن تو میری سرگوشی
میں فضا میں ہوں منتشر نہ سمجھ

جن چراغوں کی لو بہت کم ہے
ان چراغوں کو معتبر نہ سمجھ

میں تہی دست مفلس و نادار
تو مجھے دست بے ہنر نہ سمجھ

میں ہوں قائل تری پرستش کا
تجھ سے مانگوں گا میں گہر نہ سمجھ

تیری دستک کا منتظر انجمؔ
شہر میں ہوگا کوئی در نہ سمجھ

sad quotes emotional

جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے

جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے
بچے لیکن سوئے ہوئے تھے کس سے کہانی کہتے

سچ کہنے  کا حوصلہ تم نے چھین لیا ہے ورنہ

شہر میں پھیلی ویرانی کو سب ویرانی کہتے

وقت گزرتا جاتا اور یہ زخم ہرے رہتے تو
بڑی حفاظت سے رکھی ہے تیری نشانی کہتے

وہ تو شاید دونوں کا دکھ اک جیسا تھا ورنہ
ہم بھی پتھر مارتے تجھ کو اور دیوانی کہتے

تبدیلی سچائی ہے اس کو مانتے لیکن کیسے
آئینے کو دیکھ کے اک تصویر پرانی کہتے

تیرا لہجہ اپنایا اب دل میں حسرت سی ہے
اپنی کوئی بات کبھی تو اپنی زبانی کہتے

چپ رہ کر اظہار کیا ہے کہہ سکتے تو آنسؔ
ایک علاحدہ طرز سخن کا تجھ کو بانی کہتے

Sad quotes that can express your feelingsthese sad quotes will touch your heart and you will feel that its all about you so read and share with those who made you sad and tell them how you are feeling right now