Hazrat Muhammad SAW
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تعلق عرب کے قریشِ قبیلہ بنو ھاشم سے تھا۔ اس خاندان کی ایمانداری اور سخاوت بہت مشہور تھی۔

Hazrat muhammadﷺ Life
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے اخری نبی اور رسول ہیں جو 571 ہجری میں مکہ میں پیدا ہوئے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کا نام حضرت امنہ اور والد کا نام حضرت عبداللہ تھا اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے چند ہفتہ وفات پا گئے تھے جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ سال کے تھے
تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا جان بھی وفات پا گئے پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش تربیت اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب نیکی اپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سچ بولتے اور ایمانداری کے ساتھ وعدہ پورا کرتے تھے اسی وجہ سے مکہ کے لوگوں نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور امین کہتے
حضرت محمد ﷺجس راتھ اپ دنیا میں تشریف لائے
جس راتھ اپ دنیا میں تشریف لائے تو اللہ تعالی نے بہت سے معجزات دنیا کو دکھائے فارس کاا تش کادہ جس میں ہزار سال سے اگ روشن تھی اور فارسی اس اگ کی پوجا کرتے تھے وہ اچانک پہنچ گئے کسرا کا محل دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور 14 کونگرے زمیں پر گر کر ٹوٹ گاۓ اور دریاے سابا جو خوشک پرڈا تھا اس میں پانی روانہ ہو گیا
دنیا میں جیتنے بوتھ تھے سب گیر کے ٹوٹ گۓ اور دنیا میں جتنے بھی بادشاہوں کے وجہ سے زمین کا طاقت گر گئے جتنے بھی ساحر جادوگر کارن اور معجم تھے ان کا کہ ہم جواب دے گیا تھا زبان سے غیب کی خبریں بتانے والے ایک ٹاپ کے لیے ان کے جو کہتے ہیں جن کے امداد اسمانوں سے ان کے لیے خبریں لاتے تھے ان کی ملاقات کا سلسلہ شفا ہو گیا تھا موقع کی سرزمین سے ایک ایسا موقع ہے جس کی روشنی اتنی دور تک تھی کہ مکے کے لوگوں نے مکے میں بیٹھ کر شام کے معاملات اپنی انکھوں سے جائزہ لیا بہت ساری رات ستارے اس مسجد کے ساتھ کر گرے کہ لوگ پریشان ہو کر ایک دوسرے سے سوال کر رہے تھے کہ اج کی رات کیا ہوا کیا پیش ایا ہے جو ایک مشہور قائم تھا اس نے لوگوں نے پوچھا کہ یہ سارے مسلسل کی حکومت رہے ہیں اس نے کہا مشہور ستارے ہیں جن کی مدد سے لوگ کرتے ہیں گرمی اور سردی کے حالات پتہ چلتے ہیں جا کر دیکھو اگر وہ ستارے ہوتے ہیں تو سمجھ لینا کہ یہ رات اس کائنات کی تشری رات ہے کیونکہ یہ قیامت کی نشانی ہے اور اگر دوستان اس کی جگہ پر باقی ہیں اور دوسرے ستارے ٹوٹ رہے ہیں تو سمجھ لینا کہ اج دنیا میں کوئی بہت عجیب اتری واقعہ پیش ایا ہے جب لوگوں نے دیکھا کہ وہ مشہور ستارے اپنی جگہ پر قائم ہیں تو انہیں یقین ہو گیا کہ اج کی رات کوئی نہ کوئی واقعہ پیش ایا ہے تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ اسمان سے ملائکہ کی گالیاں تسبیح و تقدیس کے گیت گاہکتی ہوئی زمین کی جانب ارہی تھی ان غیر معمولی واقعات کو دیکھ کر جہاں انسان حیران تھے وہاں شیطان بھی پریشانی اور حیرت ہے مبتلا تھا اس نے اپنے چیلوں کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ پتہ کرو مادرہ کیا ہے
شیطان کے جیلوں نے ساری دنیا اور صبح کے بعد ناکام واپس لوٹے اور شیطان کو بتایا کہ انہیں کچھ پتہ نہیں چل سکا اس کے بعد شیطان نے سوچ نکلنے کا فیصلہ کیا اور سوچا کہ اسمان پر جا کر دیکھتا ہوں کہ فرشتوں میں کیا بات چل رہی ہے اس وقت شیطان کو چوتھے اسمان تک کی رسائی حاصل کی لیکن اج چوتھا اسمان تو کیا پہلے اسمان پر ہی فرشتوں نے اسے روک لیا اور بات ہی ہتھیاروں سے اسے اگا دیا اس کے بعد شیطان زمین کی سیر کے لیے نکلا اور حرم کی سرزمین میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن وہاں بھی فرشتوں نے اسے لیا اس کے بعد وہ مکے کی پچھلی جانب جبل محبت پہنچا جہاں اتارے حرا میں اور جہاں زور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر پہلی وحدانی کی تھی وہاں اس نے اپنے ہاتھ کو ایک چھوٹی سی چڑیا کے روپ میں تبدیل کیا اور پھر حرم میں داخل ہونے کی کوشش کی اس مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اسے پہچان لیا اور اسے وہاں سے دبا دیا شیطان نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا اے جبرائیل سر ایسا واقعہ پیش ایا ہے کہ مجھے اسمان پر جانے سے بھی روک دیا گیا اور اب ایک چڑیا کے روپ میں بھی حرم میں داخل نہیں ہونے دیا گیا بچہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا
کہ اج انتہائی مقدس رات ہے اج سرکاری انبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کیحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی رات ہے ان کی ولادت ہونے والی ہے اس لیے تجھے ایسا مقام دیا گیا ہے شیطان نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ اے جبرائیل یہ تو بتا دو کہ اس پیدا ہونے والے بچے پر میرا کوئی بس چلے گا کہ نہیں میں انہیں بہکا سکوں گا کہ نہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اس دور پر تمہارا کوئی بس نہیں چلے گا اس شیطان نے پوچھا کہ اے جبرائیل کیا ان کا کلمہ پڑھنے والے میرے بہکاوے میں ا جائیں گے کہ نہیں حضرت جبرائیل نے کہا اے شیطان رسول تو رسول ان کے کلمہ پڑھنے والے پر بھی تمہارا بس وہی چلے گا جب تک کہ اس کے دل میں اس دنیا کی محبت نہ پیدا ہو جائے جب دنیا کی محبت پیدا ہو گئی تو شیطان اس کو اپنا خدا بنا لے گا حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ جناب امنہ کہتی ہیں کہ دوران حمل مجھے کبھی کوئی کرانی جا سکتی محسوس نہیں ہوئی اور نہ کبھی کوئی ایسا احساس ہوا جو پہلے بچے کی ولادت کے بعد بارش کی عام عورتیں بیان کیا کرتی تھیں اپ فرماتی ہیں کہ میں اور فاطمہ بنت اسد کمرے میں بیٹھی تھی کہ اچانک کمرے کی روشنی میں اضافہ ہونے لگا اور ایسا لگا کہ یہ ہمراہ انکھوں سے پوشیدہ ہوتا جا رہا ہے جناب فاطمہ بنت اسد یہ منظر دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھی کے گھر کے مردوں کو جا کر بتائی حضرت ابو طالب کو اواز دی اور جو دیکھا تھا وہ بیان کیا حضرت ابو طالب نے کہا فاطمہ گمراؤ نہیں یہ سارا منظر اس نور کی وجہ سے ہے
Muhammad ﷺ
جو اس دنیا میں تشریف لانے والا ہے حضرت امنہ کہتی ہیں کہ ادھر حضرت فاطمہ بنت اسد باہر نکلی ادھر ایک سفید پرندہ اٹھانے لگا عجیب بات یہ ہے کہ مکان کی چھت پہ لائٹ ہو گئی ہے اور ہر طرف کس قدر نور ہے کہ جس نے میرے ارد گرد کی تمام چیزوں کوشیدہ کر دیا ہے اور اب میں گویات میں اسمان تک کا مشاہدہ کر رہی ہے جناب امنہ کہتی ہیں کہ اس وقت ایک سفید پرندہ ایا اس نے اپنے جسم کو میری پیشانی سے مس کیا جیسے ہی اس نے اپنا جسم میری پیشانی کے ساتھ مس کیا میرے گرد جتنا نور تھا وہ سیمنٹ کر میری پیشانی میں جمع ہو گیا جناب امنہ نے اسمانوں کا نظارہ کر لیا اور اس کے بعد ان کو اپنا کمرہ دوبارہ نظر جناب فاطمہ بنت اسد بھی اس پر دوبارہ تشریف لا چکے تھے جناب امنہ کہتی ہیں کہ اس وقت چار عورتیں میرے پاس ائی جن کے ہاتھ میں شیشے کے گلاس بہت سراہیاں تھیں انہوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ ہم جنت کے ہوئے ہیں اور میں پروردگار سے اپ کے پاس تشریف لائی ہے یہ جنت کا شربت ہے اسے حضرت امنہ نے وہ شربت کیا تو ایک مرحلے کے لیے دنیا سے غافل ہو گئی اپ جیسے ہی ہوش میں اتی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ ان کا بچہ ان کے پاس اس انداز میں سجدے کی حالت میں ہے زمین پر ہے اور دائیں ہاتھ اسمان کی طرف اس کی پیشانی خانہ خدا کی جانب ہے بہت جیسے ہی ہو سکتا سے اٹھا اس کی پیشانی سے ایسا ظاہر ہوا کہ میں نے اور میری بہن فاطمہ نے اسی نور کی روشنی میں ایک طرف یمن کے سرخ محرم دیکھے تو دوسری جانب اثرات بہت شام کے علاقے کو دیکھا اور تیسری جانب ایران کے محلات ہماری انکھوں کے سامنے اگئے حضرت امنہ فرماتی ہیں کہ میرے ہاں بچے کی ولادت ہوئی اور مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ یہ بچہ کس وقت دنیا میں ظاہر ہوا اس کے بعد مسلسل میرے کانوں میں لوگوں کے سلام کی اواز انے لگی السلام علیک یا محمد السلام علیک یا محمد میں نے ان چاروں سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں انہوں نے کہا کہ
یہ فرشتوں کی ڈالیے ہیں جو سلام کرنے جا رہی ہے اس کے بعد ان چاروں نے کہا کہ ہم اس امانت کو جبرائیل علیہ السلام کے سپرد کر کے واپس جا رہی ہیں ان چاند وروں میں سے ایک نے بچے کوٹ نہیں کر لیا اور پھر انے والے ایک نوجوان کی گود میں ڈال دیا مجھے بتایا گیا کہ یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں ان کے ساتھ ہیں اپ دونوں کے ہاتھ میں جنت کے پانی سے بھرے ہوئے لوٹے تھے انہوں نے اس پانی کو بچے کے اوپر ڈالنا شروع کیا بات فرمایا اس بچے کو اس پانی کی ہے اسے غسل کرنے کی ضرورت نہیں ہے مگر مصطفی بھی زیادتی کے لیے چلتے رہے ہیں جناب امنہ کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا ہو کہ بچہ ختنہ شدہ ہے ناف کٹی ہوئی ہے بہت پاکیزہ ہے حضرت جبرائیل او حضرت می قایل علیہ سلام ابھی نہلا کے فارغ ہوے تھے اچانک اسمان سے ایک سفید رنگ کا بادل نمودار ہوا اور اس نے بچے کو چوپالیا اس کے بعد میرے کان میں کسی نے کہا اسے لے جاؤ دنیا کے پہاڑ اور جنگل دکھاؤ اور ہر ایک سے کہو کہ یہ تمہارا سردار ہے
حضرت خدیجہ سے نکاح اور تجارت
25 برس کی عمر میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا تجارت کا سامان لے کرشام گئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایمانداری سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام پہنچایا نکاح کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر 40 سال تھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 25 سال تھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں اکثر جاتے تھے اور اکیلے تنہائی میں اللہ سے دعائیںکرتے تھے
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا پیغام
جب اپ صلی اللہ علیہ وسلم 40 سال کے ہوئے تو ایک دن وہاں اللہ تعالی کے فرشتے حضرت جبرائیل عل السلام ائے انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالی نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اخری نبی منتخب کر لیا ہے
اسلام کو قبول کرنے والے پہلے مسلمان
اپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر ائے اور اپنی زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ بات بتائی کہ وہ فورا اللہ پر ایمان لے ائے ہیں وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اپ نے اللہ کے حکم سے لوگوں کو بت پرستی چھوڑ کر ایک اللہ پر ایمان لانے کی دعوت تبلیغ دینے لگے مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا اور لڑکوں میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا اور پھر کئی لوگوں نے اللہ پر ایمان لے ائے اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بن گئے یہ دیکھ کر قریش کے سردار اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے لگے مدینہ کے لوگوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں انے اورسردار بننے کی درخواست کی
مدینہ ہجرت اورغار سور میں چپن
جب کفار مکہ نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر ظلم و ستم کی انتہا کرتی تو اللہ تعالی نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ساتھیوں سمیت مدینہ سے ہجرت کر جائیں تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو کافر مکہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑنے کے لیے نکلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہا ایک غار میں جا کر چھپ گئے اس غار کا نام غار ثور ہے
مکڑی کا جال بننا
اسی روز مکڑی نے غار کے منہ پر جالا لگا کر تان دیا جب دشمن وہاں پہنچے تو انہوں نے دیکھا غار کے اندر کوئی نہیں گیا ہوگا ورنہ جالا ٹوٹ جاتا وہ واپس لوٹ گئے اور کچھ دن کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر مدینہ پہنچ گئے مدینہ کے لوگوں نے بہت خوش ہو کر اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا اس وقت اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 53 سال تھی نبی
اخری حج کا خطبہ
پاک صلی اللہ علیہ وسلم سب کے ساتھ نرمی محبت اور عزت سے پیش ایا کرتے تھے اس کے نتیجے میں بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور تربیت کے اثر سے معاشرہ خوشحالی میں بدل گیا عورتوں کی عزت اور غریبوں یتیموں مسکینوں محتاجوں کو بہت احترام اور عزت دی اپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے کچھ عرصہ پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اخری حج کا خطبہ دیا یہ خطبہ پوری انسانیت اور امت مسلمہ کے لیے ہدایت اور رہنمائی پر مبنی تھا

Hazrat muhammad Mustafa (PBUH) To English
He (PBUH) belonged to the Banu Hashim tribe of the Quraish tribe of Arabia. The honesty and generosity of this family were well known.

Hazrat muhammadﷺ Life
Hazrat Muhammadﷺ is the last prophet and messenger of Allah who was born in Mecca in 571 AH. His mother’s name was Hazrat Amna and his father’s name was Hazrat Abdullah. His father died a few weeks before his birth. When Hazrat Muhammadﷺ was eight years old, his grandfather also died. Then his uncle Abu Talib took care of his upbringing. He always spoke the truth and kept his promises honestly. That is why the people of Mecca called him Sadiq and Amin.
The day hazrat muhammad saw (peace be upon him) came into the world
The day he came into the world, Allah Almighty showed many miracles to the world. The Persian fire, which had been burning for a thousand years and the Persians worshipped this fire, suddenly arrived. The palace of Kisra was divided into two parts and 14 corners fell to the ground and broke, and the river Saba, which was dry, began to flow.
The victory booths in the world were all broken and the power of the earth fell because of all the kings in the world. All the magicians, sorcerers and interpreters were answered by us. For a top who told the news of the unseen with his tongue, what they said, whose help brought news to them from the heavens, their meeting was healed. There is such a chance from the land of opportunity whose light was so far away that the people of Mecca sat in Mecca and reviewed the affairs of the evening with their own eyes. Many nights the stars passed by this mosque.
It happened that people were worried and were asking each other what happened last night. There was a famous star. He asked the people that they had been in power for a long time. He said that there are famous stars with the help of which people know the conditions of heat and cold. Go and see if they are stars. If they are stars, then understand that this night is the last night of this universe because it is a sign of the Day of Judgment. And if the stars remain in their places and the other stars are falling, then understand that some very strange event has happened in the world today.
When people saw that those famous stars were still in their places, they became convinced that some event had happened that night. History also tells us that the curses of angels from the sky were directed towards the earth, singing songs of praise and sanctification. Seeing these unusual events, where people were surprised, Satan was also troubled and amazed. He gathered his disciples and said to them, “Find out what is the matter.” The prisons of Satan covered the whole world and after morning they returned unsuccessfully and the devil He said that he could not find out anything.
After that, Satan decided to go out and thought that he would go to the sky and see what was going on among the angels. At that time, Satan gained access to the fourth sky, but what about the fourth sky? The angels stopped him in the first sky and made him fall with weapons. After that, Satan went out to walk around the earth and tried to enter the land of the Haram, but the angels caught him there too. After that, he reached the mountain of love in the back of Mecca, where he landed in Hira and where the first single effort was made on the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him).
There, he transformed his hand into the form of a small bird and then tried to enter the Haram. This time, Hazrat Gabriel (peace be upon him) recognized him and pushed him away from there. Satan asked Hazrat Gabriel (peace be upon him), “O Gabriel, such an incident has happened that I have been prevented from going to the sky and now I am not allowed to enter the Haram even in the form of a bird.” The child Gabriel (peace be upon him) said, “Today is a very sacred night.” Today is the official birthday of the Prophet Muhammad (peace be upon him). It is the night of the birth of the Prophet Muhammad (peace be upon him). His birth is about to take place, so you have been given such a position. Satan asked Gabriel (peace be upon him), “O Gabriel, tell me whether I will be able to control this child or not.
Will I be able to mislead him?” Gabriel (peace be upon him) said, “You will not be able to control this child or not.” The devil asked, “O Gabriel, will those who recite his words be misled by me?” Gabriel said, “O Satan, the Messenger of Allah, you will be able to control the one who recites his words until the love of this world arises in his heart.
When the love of this world arises, Satan will make him his god.” Amna said to the Holy Prophet (peace be upon him), “During my pregnancy, I never felt that I could do anything, nor did I ever feel anything that ordinary women used to describe after the birth of their first child. You say, “I and Fatima Bint Asad was sitting in the room when suddenly the light in the room started increasing and it seemed that it was disappearing from the eyes.
Seeing this scene, Mrs. Fatima Bint Asad got up from her seat and went to the men of the house and told them. She called Hazrat Abu Talib and described what she had seen. Hazrat Abu Talib said, “Fatima, do not be misled. This whole scene is because of the light that is about to enter this world.” Hazrat Amna said, “Here, Hazrat Fatima Bint Asad came out and a white bird started flying.
The strange thing is that the roof of the house has become light and there is so much light everywhere that it has illuminated everything around me and now I am observing even the sky in my dreams.” Mrs. Amna said, “At that time, a white bird came and touched its body to my forehead.
As soon as it touched its body to my forehead, all the light that was around me cemented and gathered in my forehead.” Hazrat Amna saw the skies and after that, Hazrat Fatima bint Asad had also returned to her room. Hazrat Amna says that at that time four women came to me, who had glass glasses full of praise in their hands. They greeted me and said, “We have come to Paradise and I have come to you from my Lord. This is the drink of Paradise.” Hazrat Amna gave her that drink, and for a moment she became oblivious to the world.
As soon as she regained consciousness, did she see that the child is in a state of prostration with them on the ground and his right hand is towards the sky, his forehead is towards the House of God. He raised it as high as possible. It was so visible from his forehead that I and my sister Fatima saw the red Muharram of Yemen on one side, and on the other side, the vast expanse of Syria, and on the third side, the palaces of Iran appeared before our eyes.
Hazrat Amna says that a child was born to me and I did not even know when this child appeared in the world. After that, the sound of people’s greetings kept ringing in my ears: “Assalamu alaykum ya Muhammad Assalamu alaykum ya Muhammad.” I asked the four of them who they were. They said that they were the daughters of angels who were going to greet them.
After that, the four of them said that we are entrusting this trust to Gabriel (peace be upon him) and are going back. One of the moon-bearers did not take the child and then placed him in the lap of a young man who was coming. I was told that this was Hazrat Gabriel (peace be upon him) and he was with them. You both returned with the water of Paradise in your hands. They started pouring this water on the child. They said that this child belongs to this water. He does not need to bathe.
But Mustafa also continued to abuse him. Mr. Amna said that I have seen that the child is circumcised. The navel has been cut. He is very pure. Hazrat Gabriel and Hazrat May Qail (peace be upon them) had just finished bathing. Suddenly a white cloud appeared from the sky and it touched the child. After that, someone said in my ear, “Take him, show him the mountains and forests of the world and tell everyone that this is your leader.”
Marriage with Hazrat Khadija and trade
At the age of 25, Hazrat Muhammadﷺ went to Syria with Hazrat Khadija’s trade goods. Impressed by the honesty of the Prophetﷺ, Hazrat Khadijaﷺ conveyed the message of marriage to him. At the time of marriage, Hazrat Khadijaﷺ was 40 years old. The Prophet Muhammad (peace be upon him) was 25 years old. He (peace be upon him) used to go to the Cave of Hira often and pray to Allah alone.
Allah’s message to Muhammad (peace be upon him)
When he (peace be upon him) was 40 years old, one day the angel of Allah, Hazrat Jibraeel (peace be upon him), came there and told him that Allah had chosen him (peace be upon him) as the last prophet.
The first Muslim to accept Islam
The Prophet (peace be upon him) came home and told his wife Hazrat Khadija (may Allah be pleased with her) that she had immediately believed in Allah. She was the first woman to accept Islam at the hands of the Prophet (peace be upon him). By the command of Allah, she began to preach to people to abandon idolatry and believe in one Allah.
The first among the men to accept Islam was Hazrat Abu Bakr (may Allah be pleased with him) and among the boys, Hazrat Ali (may Allah be pleased with him) accepted Islam. Then many people believed in Allah and became his companions. Seeing this, the leaders of the Quraysh began to oppose him (peace be upon him). The people of Medina requested Hazrat Muhammad (PBUH) to come there and become their leader
The migration to Medina and the shelter in the cave of Sur
When the infidels of Mecca were oppressing the Prophet (PBUH) and his companions to the utmost, Allah Almighty ordered him (PBUH) to migrate from Medina along with his companions. He (PBUH) set out for Medina. The infidels of Mecca set out to capture him (PBUH). Hazrat Muhammad (PBUH) and his companion Hazrat Abu Bakr (RA) went to a cave and hid. The name of this cave is Ghar Thawr
Making a trap
On that day, a spider spread its web at the mouth of the cave. When the enemies reached there, they saw that no one had gone inside the cave, otherwise the web would have broken. They returned and after a few days, Hazrat Muhammad (PBUH) and Hazrat Abu Bakr reached Medina. The people of Medina welcomed him (PBUH) with great joy. At that time, The Prophet Muhammad (PBUH) was 53 years old
The Last Hajj Sermon
The Holy Prophet (PBUH) used to treat everyone with kindness, love and respect, as a result of which many people accepted Islam. Due to the influence of his education and training, the society changed into prosperity. He respected women and gave great respect and honor to the poor, orphans, and the needy. Shortly before his death, Hazrat Muhammad (PBUH) delivered the Last Hajj Sermon. This sermon was based on guidance and guidance for all humanity and the Muslim Ummah.














